Rahat Andori Ghazal

راحتؔ اندوری اپنے مخصوص لہجے میں۔۔۔


سمندر پار ہوتی جا رہی ہے
دعا ، پتوار ہوتی جا رہی ہے

دریچے اب کھلے ملنے لگے ہیں
فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے

کئی دن سے مرے اندر کی مسجد
خدا بیزار ہوتی جا رہی 

مسائل، جنگ، خوشبو، رنگ، موسم
غزل اخبار ہوتی جا رہی ہے

بہت کانٹوں بھری دنیا ہے لیکن
گلے کا ہار ہوتی جا رہی ہے

کٹی جاتی ہیں سانسوں کی پتنگیں
ہوا تلوار ہوتی جا رہی ہے

کوئی گنبد ہے دروازے کے پیچھے
صدا بیکار ہوتی جا رہی ہے

گلے کچھ دوست آ کر مل رہے ہیں
چھری پر دھار ہوتی جا رہی ہے

Post a Comment